شکاری پور 5؍مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی)۔شیموگہ ضلع کے شکاری پور ٹاؤن میں تالابوں کو پُر کرنے کے آبپاشی منصوبوں کا افتتاح کرتے ہوئے کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بسوراج بومائی نے اس بات کا دعویٰ کیا کہ ریاستی بجٹ میں انہوں نے عوام کی آمدنی کو بنیادی اہمیت دی ہے۔بومئی نے کہا کہ میں دولت سے زیادہ عوام میں یقین رکھتا ہوں۔ لہٰذا میں نے بجٹ میں نوجوانوں، خواتین اور کسانوں کو اہمیت دی تا کہ ان کی بھی آمدنی بہتر ہو اور وہ ریاست کی خوشحالی میں تعاون کرسکیں۔
انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ بی ایس یدی یورپا کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے نافذ کردہ ریاستی مالیاتی ڈسپلن اور اسکیمات جاری ہیں۔ ان کے مطابق عالمی وباء سے مقابلہ کرتے ہوئے یڈی یورپا نے کرناٹک کو تمام شعبوں میں محفوظ رکھنے کا کام کیا تھا۔ آگے کہا کہ میں ان کے نقش قدم پر چل رہا ہوں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ کرناٹک کو ہندوستان کی ماڈل ریاست بنانے اور ریاست میں سماجی اور علاقائی مساوات لانے کے خواہاں ہیں۔چیف منسٹر بسوراج بومئی نے کہا کہ تنگ نظر سیاست سے مقابلہ کے لیے بین ریاستی آبی تنازعات قانون میں مکمل ترمیم کی ضرورت ہے۔
جیون مشن اور سوچھ بھارت مشن (دیہی) منصوبوں کے جنوبی ریاستوں کے کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ آبی تنازعات پر تنگ نظر سیاست سے نمٹنے اور عوام کو مزید پانی کی دستیابی کے لیے قانون میں ترمیم کی جانی چاہیے۔ بومئی نے کہا کہ عوام کو پانی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے مسائل سے نمٹتے وقت ہمیں اتفاق رائے سے کام کرنا چاہیے۔
بی جے پی سے تعلق رکھنے والے بومائی نے اپنے رہنما نریندر مودی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے وزیراعظم کا نظریہ ہے کہ سربراہی آب کے ذریعہ پائیدار گزربسر کو یقینی بنایا جاسکتا ہے اور ہمیں اسے حقیقت بنانے کے لیے متحدہ طور پر کام کرنا چاہیے۔ بومئی نے کہا کہ حکومت‘ کاویری واٹر مینجمنٹ بورڈ سے میکے داتو پر تفصیلی پراجکٹ رپورٹ کی منظوری کی توقع رکھتی ہے۔ حال ہی میں وزیر اعلیٰ کی گدی سنبھالنے والے بومائی کے مطابق آبپاشی منصوبے جس مرحلے پر ہیں کانگریس اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتی۔